جواب:-اگر عورت کے پاس جمعرات ہو اور وہ بقدر نصاب ہو تو ان سے اور رات پر زکوۃ واجب ہے اور عورت کے زیارت کے زکوۃ عورت ہی پر واجب ہے اس لیے کہ جو شخص مالک نصاب ہوتا ہے اس پر ہی زکوۃ واجب ہوتا ہے۔فقط واللہ اعلم
📖 وسببه، أي سببُ افتراضها، مِلكُ نصابٍ حَوْليٍّ تامٍّ... (الدر المختار مع رد المحتار، 3/174، كتاب الزكاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 فُرِضَتْ على حُرٍّ مسلمٍ مكلَّفٍ مالكٍ للنصاب، من نقدٍ ولو تِبْرًا، أو حُلِيًّا، أو آنيةٍ، ...(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 713–714، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص نے قربانی میں ایک بھینس خریدی بعد میں پاتا چلا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے تو اس بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں نیز قربانی کے بعد بھینس کے پیٹ سے اگر بچہ نکلے تو اس کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
- سعی کا شرعی طریقہ مرد اور عورت کے لیے کیا ہے
- قربانی میں تمام شرکاء کے نام لینا ضروری ہے یا نہیں
- اذان سے پہلے ظہر کی سنت پڑھنے سے سنت ادا ہونے کا حکم
- ایام-حج-میں-حرمین-پہنچنے-والے-پر-حج-فرض-ہوگا-یا-نہیں