مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟

الجواب:-صورت مزکورہ میں امام کی نماز کراہت تحریمی کے ساتھ صحیح ہو جائے گی بشرطیکہ امام نے قعدہ اخیرہ کیا ہو لیکن وقت کے اندر اندر اعادہ لازم ہوگا اور وقت گزرنے کے بعد اعادہ لازم نہیں ہوگا لہذا جن مقتدیوں نے اس امام کے پیچھے اقتدا کی تو ان کی نماز فاسد ہو جائے گی اور ان پر نماز کا اعادہ لازم ہوگا-

📖 «لَوِ اقْتَدَى مُقِيمُونَ بِمُسَافِرٍ، وَأَتَمَّ بِهِمْ بِلَا نِيَّةِ إِقَامَةٍ، وَتَابَعُوهُ، فَسَدَتْ صَلَاتُهُمْ؛ لِكَوْنِهِ مُتَنَفِّلًا فِي الْأُخْرَيَيْنِ».حوالہ: رد المحتار على الدر المختار (شامي)، ج2، ص327، ط: زكريا ديوبند۔

📖 «فَلَوْ أَتَمَّ الْمُقِيمُونَ صَلَاتَهُمْ مَعَهُ، فَسَدَتْ؛ لِأَنَّهُ اقْتِدَاءُ الْمُفْتَرِضِ بِالْمُتَنَفِّلِ». حوالہ: رد المحتار على الدر المختار (شامي)، ج2، ص612، ط: زكريا ديوبند۔

📖 «كُلُّ صَلَاةٍ أُدِّيَتْ مَعَ كَرَاهَةِ التَّحْرِيمِ تَجِبُ إِعَادَتُهَا، وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ جَابِرٌ لِلْأَوَّلِ؛ لِأَنَّ الْفَرْضَ لَا يَتَكَرَّرُ».حوالہ:** رد المحتار على الدر المختار (شامي)، ج2، ص148، ط: زكريا ديوبند۔