الجواب وبالله التوفيق: جس معین تاریخ میں آپ پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اس دن آپ کی ملکیت میں جتنی رقم ہوگی اسی کی زکوۃ آپ پر واجب ہوگی، اور اس تاریج کے بعد جو مزید مال آیا ہے اس کو سالِ گزشتہ کی زکوۃ میں نہیں جوڑا جائے گا؛ بلکہ اگلے سال مقررہ تاریخ میں جو مال موجود ہوگا اسی کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں پانچ رمضان میں آپ دو لاکھ کے مالک ہیں تو صرف دو لاکھ پر زکوٰۃ واجب ہوگی، پانچ رمضان کے بعد جو مال میں اضافہ ہوا ہے اس کی زکوٰۃ اگلے سال پانچ رمضان میں موجودہ مال پر واجب ہوگی۔
📖 📖 فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق. (الفتاوى الهندية/كتاب الزكاة/الباب الأول، ١٩٣/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
📖 📖 وأما المستفاد في أثناء الحول فيضم إلى مجانسه ويزكي بتمام الحول الأصلي. (مراقي الفلاح/كتاب الزكاة، ص: ٧١٥، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟