الجواب وبالله التوفيق: جس معین تاریخ میں آپ پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اس دن آپ کی ملکیت میں جتنی رقم ہوگی اسی کی زکوۃ آپ پر واجب ہوگی، اور اس تاریج کے بعد جو مزید مال آیا ہے اس کو سالِ گزشتہ کی زکوۃ میں نہیں جوڑا جائے گا؛ بلکہ اگلے سال مقررہ تاریخ میں جو مال موجود ہوگا اسی کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں پانچ رمضان میں آپ دو لاکھ کے مالک ہیں تو صرف دو لاکھ پر زکوٰۃ واجب ہوگی، پانچ رمضان کے بعد جو مال میں اضافہ ہوا ہے اس کی زکوٰۃ اگلے سال پانچ رمضان میں موجودہ مال پر واجب ہوگی۔
📖 📖 فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق. (الفتاوى الهندية/كتاب الزكاة/الباب الأول، ١٩٣/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
📖 📖 وأما المستفاد في أثناء الحول فيضم إلى مجانسه ويزكي بتمام الحول الأصلي. (مراقي الفلاح/كتاب الزكاة، ص: ٧١٥، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم
مزید متعلقہ سوالات
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔
- نیم کے پتوں میں پکے ہوئے پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں ؟
- بیماری اور مصیبت سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا کیسا ہے؟
- گھر میں موجود تمام قرآن پڑھنا ضروری ہے؟
- امام ابوحنیفہ رحمہ نے کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہے ؟