جواب:-سورۃ مسئلہ میں زکوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ زکوۃ کی نصاب کے بقدر اس مال پر زکوۃ واجب ہوتی ہے جو ضرورت سے زائد ہونے کی ساتھ ہو “مال نامی” بھی ہو ہاں مذکورہ چیزوں میں مالک سے زکوۃ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم
📖 📖 مفازع عن الحاجة الاصلية لان المشغول بها كالمعدوم وفسره ابن مالك لما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كاثيابه.... (رد المختار ١٧٨/٣-١٧٩،كتاب الزكاة زكريا ديوبند)
📖 ومنها: كون المال ناميا لان معنى زكاة وهو انما لا يحصل الا من مال الناى ولسنا معنى به حقيقة النماء لان ذلك غير معتبر والاخ ..(بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة الشرفيه،ديوبند)
📖 وعن حاجة الاصلية نام ولو تقديرا.... وانما الحقيقي يكون بالتوالد والتناسل والتجارات والتقديريى يكون بالتمكن من الاستنماء الاخ (حاشية الطحطاوي:٧١٥ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص کسی دوکان سے ادھار سامان خریدے اور قیمت ادا کرنے کی مدت طے نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ بعد میں دونگا تو ایسی صورت میں شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟
- اگر کوئی شخص نماز کے اندر کوئی فرض یا کوئی واجب یا کوئی سنت چھوڑ دے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے کام چل جائے گا یا ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر الگ ہے تو ہر ایک کو بیان کریں؟
- غیر کی زمین میں اس غیر کی اجازت کے بغیر طاقت کے بل بونے پر مسجد بنا لی گئی اس میں باضابطہ نماز ہونے لگے جب تک اس غیر کو اس زمین کا معاوضہ ادا نہ کیا جائے تو نماز مکروہ ہوتی رہے گی معاوضہ ادا کرنے کے بعد کراہت ختم ہو جائے گی تو سوال یہ ہے کہ معاوضہ ادا کرنے سے پہلے وہ شرعی مسجد کہاں لی جائے گی یا نہیں؟
- جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے یا ہجرت کے بعد دلیل سے جواب لکھے اگر جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کیوں قائم نہیں فرمایا؟
- ایک صاحب نے فائننس پر مشین خریدنا چاہتا ہے تو حوالہ کی شکل کیا ہوگی؟