اذان سے پہلے ظہر کی سنت پڑھنے سے سنت ادا ہونے کا حکم
الجواب وبالله التوفيق: مسؤلہ صورت میں اگر ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد سنتیں پڑھی ہیں خواہ اذان سے پہلے ہی پڑھی ہوں تو جائز اور درست ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
📖 مستفاد از: فتاویٰ دارالعلوم وقف دیوبند، 6/371، ط: حجۃ الاسلام اکیڈمی؛ فتاویٰ قاسمیہ، 8/203، ط: اشرفیہ دیوبند۔
📖 سنن للفرائض، وخرج بالفرائض ما عداها، فلا أذان للوتر، ولا العيدين، ولا الجنائز، ولا للكسوف، والتراويح والسنن الرواتب. (البحر الرائق/كتاب الصلاة/باب الأذان، ٤٤٤/١، ط: زكريا ديوبند)
📖 وإما الصلاة المسنونة فهي السنن المعهودة للصلوات المكتوبة........ أما الأول فوقت جملتها وقت المكتوبات؛ لأنها توابع للمكتوبات، فكانت تابعة لها في الوقت. (بدائع الصنائع/كتاب الصلاة/فصل: في الصلاة المسنونة، ٢٦٣/٣، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟