ایک صاحب نے فائننس پر مشین خریدنا چاہتا ہے تو حوالہ کی شکل کیا ہوگی؟
الجواب:- صورت مسئولہ میں اگر وہ شخص فائننس پر ۳۰ لاکھ کی مشین لینا چاہتا ہے تو اس کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ اگر مثال کے طور پر مشین کی قیمت ۳۰ لاکھ ہے اور فائننس کرانے کی صورت میں ۵۰ ہزار مزید لیتا ہے تو اس میں جواز اور عدم جواز کا مدار تحریری معاہدہ پر ہے اور تحریری معاہدہ اگر اس طرح لکھا جائے کہ مشین کی قیمت ۳۰ لاکھ ہے اور فائننس کرانے ۵۰ ہزار مزید لکھا گیا ہے تو اس طرح جائز نہیں تاہم اگر تحریری معاہدہ لکھنے کی یہ صورت اختیار کی کہ مشین کی کل قیمت اور ادائیگی ۳۰ لاکھ ۵۰ ہزار ہے جس کی قسط باندھ لی گئی ہے کہ ادائیگی دو سال میں ہوگی تو یہ جائز اور درست ہے ایسی صورت میں مشین کی کل قیمت ۳۰ لاکھ ۵۰ ہزار سمجھی جائے گی-(قاسمیہ: ۵۰۳/۱۹)
📖 البيع مع تاجيل الثمن والتقسيطه صحيح الى يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط إذا عقد البيع على تاجيل الثمن إلى كذا يوما وشهرا (شرح مجلة:١٢٤/١-١٢٥،المادة:٢٤٥،اتحاد)
📖 البيع لأجل أو بالتقسيط اجاز الشافعية والحنفية و المالكية والحنابلة والجمهور بيع الشيء في الحال لأجل أو بالتقسيط باكثر من ثمنه النقدي إذا كان العقد مستقلا لهذا النحو ولم يكن فيه جهالة بصفقة أو بيعة من صفقتين أو بيعتين... جاز البيع وان ذكر في المساومة سعران سعر للنقده وسعر للتقسيط ثم البيع في نهاية المساومة تقسيطا(الفقه الاسلامي و ادلته:٢٤٢/٤،الهدي)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟