الجواب وباللہ التوفیق واضح رہے کہ بینک سےلون لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، جس کا لینا دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،چوں کہ کسی بھی بینک سے لون لینے کی صورت میں سود کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے کسی بھی بینک سے لون لینا، خاص کر عام حالات میں ہرگز جائز نہیں ہے، لہذا اگر لون لینا ہی ہو تو بینک کے علاوہ کسی اور سے غیر سودی قرضہ حاصل کر یں، نیز اگر کاروبار کرنا ہےتو اپنی طاقت اور استعداد کے بقدر جو کاروبار کرسکتے ہیں وہ کریں،چھوٹے پیمانے سے ہی کام شروع کردیں فقط_ واللہ أعلم باالصواب (مستفاد: کتاب النوازل٢٠٣/١١__فتاوی قاسمیہ ٣١/٢١)

📖 عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ».حوالہ: مشكاة المصابيح، باب الربا، ص ٢٤٣، ط: قديم۔

📖 وَالثَّانِي: أَنَّهُ مَعْلُومٌ أَنَّ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا كَانَ قَرْضًا مُؤَجَّلًا بِزِيَادَةٍ مَشْرُوطَةٍ، فَكَانَتِ الزِّيَادَةُ بَدَلًا مِنَ الْأَجَلِ، فَأَبْطَلَهُ اللهُ وَحَرَّمَهُ. حوالہ: أحكام القرآن للجصاص، تحت آية: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ...﴾، ج ١، ص ٤٦٧۔

📖 وَهُوَ رِبَا أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ الْقَرْضُ الْمَشْرُوطُ فِيهِ الْأَجَلُ وَزِيَادَةُ مَالٍ عَلَى الْمُسْتَقْرِضِ.حوالہ: أحكام القرآن للجصاص، سورة البقرة، ج ١، ص ٥٦٩۔

مزید متعلقہ سوالات