👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

امام نے آیتِ سجدہ کے بعد رکوع میں سجدہ کی نیت کی تو سجدہ ادا ہوگا؟

الجواب:-اگر امام نے رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کر لی اور مقتدیوں نے نہیں کی تو اس میں اختلاف ہو گیا اکثر علماء اور اہل فتاوی کی رائے یہ ہے کہ امام کے سلام کے بعد مقتدی آیت سجدہ کا سجدہ کرے پھر قعدہ آخرہ کر کے سلام پھیرے ورنہ مقتدی کی نماز فاسد ہو جائے گی، دوسری رائے یہ ہے کہ امام کی نیت مقتدی کی نیت کے لیے بھی کافی ہو جائے گی اسی کو احسن الفتاوی نے راجح کہا ہے امت کے لیے اسی قول کو اپنانے میں آسانی ہے لیکن اس کی تائید زیادہ نہیں ملتی ہے اس لیے امام کو رکوع کے بجائے سجدہ میں نیت کر لینی چاہیے اور اس صورت میں مقتدی سجدہ کرے یا نہ کرے کسی کی نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی-

📖 فِي الشَّامِيَّةِ: وَاخْتَلَفُوا فِي النِّيَّةِ: أَنِيَّةُ الْإِمَامِ كَافِيَةٌ، كَمَا فِي الْكَافِي، فَلَوْ لَمْ يَنْوِ الْمُقْتَدِي لَا يَنُوبُ، عَلَى رَأْيٍ، فَيَسْجُدُ بَعْدَ سَلَامِ الْإِمَامِ وَبَعْدَ الْقَعْدَةِ الْأَخِيرَةِ، كَمَا فِي النِّيَّةِ... إِلَى قَوْلِهِ: وَالْأَوْلَى أَنْ يُحْمَلَ عَلَى الْقَوْلِ بِأَنَّ نِيَّةَ الْإِمَامِ لَا تَنُوبُ عَنْ نِيَّةِ الْمُقْتَدِي، وَالْمُتَبَادِرُ مِنْ كَلَامِ الْمَهْسْتَانِيِّ السَّابِقِ أَنَّهُ خِلَافُ الْأَصَحِّ، حَيْثُ قَالَ: «عَلَى رَأْيٍ»، فَتَأَمَّلْ. حوالہ: رد المحتار (شامی)، ج ٢، ص ٥٨٧، ط: زکریا دیوبند۔

📖 وَتُؤَدَّى بِرُكُوعِ صَلَاةٍ إِذَا كَانَ الرُّكُوعُ عَلَى الْفَوْرِ مِنْ قِرَاءَةِ آيَةٍ أَوْ آيَتَيْنِ، وَكَذَا ثَلَاثٍ عَلَى الظَّاهِرِ، كَمَا فِي الْبَحْرِ، إِنْ نَوَاهُ، أَيْ كَوْنَ الرُّكُوعِ لِسُجُودِ التِّلَاوَةِ، عَلَى الرَّاجِحِ، وَتُؤَدَّى بِسُجُودِهَا كَذَلِكَ، أَيْ عَلَى الْفَوْرِ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ، بِالْإِجْمَاعِ. وَلَوْ نَوَاهَا فِي رُكُوعِهِ، وَلَمْ يَنْوِهَا الْمُؤْتَمُّ، لَمْ يَجُزْ، وَيَسْجُدُ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ، وَيُعِيدُ الْقَعْدَةَ، وَلَوْ تَرَكَهَا فَسَدَتْ صَلَاتُهُ. حوالہ: رد المحتار (شامی)، ج ٢، ص ٥٨٧، ط: زکریا دیوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں