بیٹوں-کی-اجازت-کے-بغیر-ان-کے-پیسوں-سے-بیٹی-کو-دینا
الجواب و بالله التوفيق: سوال نامہ سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ بیٹے نے ماں کو اپنے مال کا مالک نہیں بنایا ۔ بلکہ اُس کے پاس بطور امانت رکھا ہے یا بغرض حفاظت ۔ لہٰذا ماں کا بیٹے کے مال میں میں سے بلا اجازت اپنی بیٹی کی ضرورت میں صرف کرنا جائز نہیں ۔۔ البتہ بھائی کو چاہیئے کہ وہ اپنے بہن کی ضرورت کا خیال رکھے ۔ ان شاء اللہ ۔ اجر عظیم کا مستحق ہوگا
📖 فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه. (سورة البقرة، رقم الآية: ۲۸۳)
📖 وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: "لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له". رواه البيهقي في شعب الإيمان". (کتاب الایمان/الفصل الثانی، ١٧/١، ط: المكتب الإسلامي بيروت)
📖 الأصل أنه لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا أذنه. (الموسوعة الفقهية/المادة: ضمان/حال تنفيذ إذن المالك وغيره، ٢٩٦/٢٨، ط: الكويت)
مزید متعلقہ سوالات
- ملازمت بچانے کے لیے داڑھی منڈوانا جائز ہے یا نہیں؟
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے