👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
بیماری اور مصیبت سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا کیسا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق: اگر کوئی شخص دنیا اور اس کی تکلیفوں سے اکتا جائے تو موت کی تمنا نہ کرے، اور نہ ہی موت کی دعا مانگے، البتہ یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.
📖 عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه، فإن كان لا بد فاعلا فليقل: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي. (صحيح البخاري/كتاب المرضى/باب نهي تمنى المرض الموت، ١٢١/٧، ط: مصر)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر پانی کی ٹنکی میں ہڈی مل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- اہل کتاب سے نکاح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟
- جہیز لینا اور دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ نیز دورِ نبوت اور دورِ صحابہ میں جہیز دینے کا کیا رواج تھا؟
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟