الجواب وبالله التوفيق: اگر کوئی شخص دنیا اور اس کی تکلیفوں سے اکتا جائے تو موت کی تمنا نہ کرے، اور نہ ہی موت کی دعا مانگے، البتہ یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.
📖 عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه، فإن كان لا بد فاعلا فليقل: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي. (صحيح البخاري/كتاب المرضى/باب نهي تمنى المرض الموت، ١٢١/٧، ط: مصر)
مزید متعلقہ سوالات
- نیم کے پتوں میں پکے ہوئے پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں ؟
- گھر میں موجود تمام قرآن پڑھنا ضروری ہے؟
- امام ابوحنیفہ رحمہ نے کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہے ؟
- کتوں کو کھانا کھلانا بہتر ہے یا غریب کی مدد کرنا؟
- ایک کمپنی ہے جس کے سامان کا ہم کو پرچار کرنا ہوگا اگر وہ سامان کوئی ہم سے خریدتا ہے تو ہمیں اس میں سے 80%کیا ایسا کرنا درست ہے دوسری بات ایک کورس ہوتا ہے جس میں کمپنی اپنے کام کو بتاتی ہے اگر ہم کسی کو اس کمپنی میں جوڑ دے تو اس میں بھی 80% ملے گا تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟