الجواب وباللہ التوفیق: نیم کے پتوں سے پکے ہوئے پانی کی رقت و سیلان اگر علی حالہ باقی رہے جیسا کہ عامہ ایسا ہی ہوتا ہے تو ایسے پانی سے وضوکرنا درست ہے اگر چہ پانی کا رنگ مزہ بدل جائے، ورنہ نہیں۔
📖 وَكَذَا الطَّبْخُ بِالْمَاءِ مَا يُقْصَدُ بِهِ الْمُبَالَغَةُ فِي التَّنْظِيفِ، كَالسِّدْرِ وَالْحَرَضِ، وَإِنْ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، وَلَكِنْ لَمْ تَذْهَبْ رِقَّتُهُ، يَجُوزُ بِهِ التَّوَضُّؤُ. حوالہ:فتاویٰ خانیہ علیٰ ہامش الفتاویٰ الہندیہ، قدیم، ج 1، ص 16، کتاب الطہارہ، الباب الثالث في المياه، فصل فيما لا يجوز به التوضؤ۔
مزید متعلقہ سوالات
- بیماری اور مصیبت سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا کیسا ہے؟
- گھر میں موجود تمام قرآن پڑھنا ضروری ہے؟
- امام ابوحنیفہ رحمہ نے کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہے ؟
- کتوں کو کھانا کھلانا بہتر ہے یا غریب کی مدد کرنا؟
- ایک کمپنی ہے جس کے سامان کا ہم کو پرچار کرنا ہوگا اگر وہ سامان کوئی ہم سے خریدتا ہے تو ہمیں اس میں سے 80%کیا ایسا کرنا درست ہے دوسری بات ایک کورس ہوتا ہے جس میں کمپنی اپنے کام کو بتاتی ہے اگر ہم کسی کو اس کمپنی میں جوڑ دے تو اس میں بھی 80% ملے گا تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟