الجواب و باللہ التوفیق :اگر مسجد میں تلاوت کر رہا ہو تو تلاوت جاری رکھنی چاہیے یہی افضل ہے البتہ تلاوت موقوف کر کے جواب دینے کا بھی اجازت ہے اور اگر گھر میں تلاوت کر رہا ہو اور اس کی مسجد کی آذان ہو رہا ہو تو تلاوت موقوف کر کے آذان کا جواب دینا چاہیے اور اگر دوسرے مسجد کی آذان ہو تو تلاوت جاری رکھنی چاہیے ،—آذان کے وقت بیت الخلا جانے کا حکم یہ ہے کہ اگر سخت تقاضا ہو تو جانے میں کوئی حرض نہی اس لئے کہ جماعت شروع ہو نے کے بعد سخت تقاضہ کے حالت میں بیت الخلا جانے کا حکم ہے تو آذان کے وقت بدرجہ اولى بیت الخلا جانے میں کوئی حرض نہی ،اور اگر معمولی تقاضہ ہو تو بیت الخلا نہی جانا چاہیے آذان کاجواب دینا چاہیے –

📖 رَجُلٌ فِي مَسْجِدٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَسَمِعَ الْأَذَانَ، فَإِنْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ يَمْضِي عَلَى قِرَاءَتِهِ وَلَا يُجِيبُ الْمُؤَذِّنَ، وَإِنْ كَانَ فِي مَنْزِلِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ هَذَا أَذَانَ مَسْجِدِهِ لَا يُجِيبُ الْمُؤَذِّنَ وَيَمْضِي فِي قِرَاءَتِهِ، وَإِنْ كَانَ هَذَا أَذَانَ مَسْجِدِهِ يَقْطَعُ الْقُرْآنَ وَيُجِيبُ الْمُؤَذِّنَ.حوالہ: التاتارخانية، ج 2، ص 154، ط: زکریا، دیوبند۔

📖 وَلَوْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ سَمِعَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ الْإِجَابَةُ، وَلَوْ كَانَ خَارِجَهُ أَجَابَ بِالْمَشْيِ إِلَيْهِ بِالْقَدَمِ، وَلَوْ أَجَابَ بِاللِّسَانِ لَا بُدَّ أَنْ لَا يَكُونَ مُجِيبًا، وَهَذَا بِنَاءً عَلَى أَنَّ الْإِجَابَةَ الْمَطْلُوبَةَ بِقَدَمِهِ لَا بِلِسَانِهِ، فَيَقْطَعُ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ، وَإِنْ كَانَ يَقْرَأُ بِمَنْزِلِهِ وَيُجِيبُ لَوْ أَذَانَ مَسْجِدِهِ، وَلَوْ بِمَسْجِدٍ لَا، لِأَنَّهُ أَجَابَ بِالْحُضُورِ... حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج 2، ص 68، ط: زکریا، دیوبند۔

مزید متعلقہ سوالات