الجواب و باللہ التوفیق:-دھاتوں کے مجسمے کی خرید و فروخت اور تجارت کرنا صاحبین کے نزدیک ناجائز اور ممنوع ہے تاہم اس کی تجارت سے حاصل شدہ کمائی-
📖 📖 إن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما(شامي: 561/9،زكريا ديوبند)
📖 📖 ذهب الى ابي حنيفة الى أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به... وذهب الصاحبان من الحنفية الى أنه لا ينبغي للمسلم أن يفعل ذلك لانه اعانة على المعصية فهو مكروه عندهما خلافا للامام وليس بحرام خلافا لما ذهب اليه الجمهور ويروي الصاحبان كراهة ذلك لما فيه من الاعانة على المعصية وطرح بعض الحنفية هذا الضابط وهو أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما كبيع السلاح من اهل الفتنة وما لم تقم بعينه يكره تنزيها(الموسوعة الفقهية:212/9-213)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟
- دعاء قنوت کی جگہ التحیات پڑھ لیا پھر یاد آیا تو کیا دعاء قنوت لوٹائے گا یا نہیں؟
- ایک شخص نے جلسہ بین السجدتین میں التحیت پڑھ لیا پھر یاد ایا اور لوٹا لیا تو کیا اس کے اوپر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
- اگر اولاد اور والدین سب ساتھ رہتے ہو اور اولاد کم ا کما کر اپنے باپ کو دے رہا ہو تو ایسی صورت میں قربانی باپ پر واجب ہے یا اولاد پر اس میں کوئی تفصیل ہے تو وضاحت کریں؟
- ضرورت شدیدہ کی وجہ سے وقف کی زمین میں تبادلہ جائز ہے یا نہیں؟