ڈاکٹر کا مریض بھیجنے کے بدلے کمیشن لینا جائز ہے؟
📖 لَا يَجُوزُ لِلطَّبِيبِ أَنْ يَقْبَلَ الْهَدَايَا مِنْ شَرِكَاتِ الْأَدْوِيَةِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ رِشْوَةٌ مُحَرَّمَةٌ، وَلَوْ سُمِّيَتْ هَدِيَّةً أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ مِنَ الْأَسْمَاءِ، لَا تُغَيِّرُ الْحَقَائِقَ. حوالہ: فتاوى اللجنة الدائمة، ج ٢٣، ص ٥٧١۔
📖 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ حوالہ: سورة النساء، آیت نمبر ٢٩۔
📖 عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، يُدْعَى ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ: هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذَا هَدِيَّةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا». حوالہ: صحيح البخاري، ج ٢، ص ٣٣، رقم الحديث: ٦٧١٠۔
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟