لجواب و بالله التوفيق مسجد میں داخل ہونے کے بعد آپ فوراً جو بھی نماز پڑھیں خواہ فرض ہو سنت ہو یا نفل اُس کے ضمن میں تحيتہ المسجد ادا ہو جاتی ہے ۔۔ اور بہتر ہے کہ باقاعدہ دل میں نیت کر لے ۔۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں نفل یا سنت نماز میں تحیتہ المسجد کی نیت کر سکتے ہیں ۔۔ کتاب المسائل/1-496 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 18):

📖 «وَيُسَنُّ تَحِيَّةُ رَبِّ الْمَسْجِدِ، وَهِيَ رَكْعَتَانِ، وَأَدَاءُ الْفَرْضِ أَوْ غَيْرِهِ، وَكَذَا دُخُولُهُ بِنِيَّةِ فَرْضٍ أَوِ اقْتِدَاءٍ، يَنُوبُ عَنْهَا بِلَا نِيَّةٍ. قَالَ فِي النَّهْرِ: وَيَنُوبُ عَنْهَا كُلُّ صَلَاةٍ صَلَّاهَا عِنْدَ الدُّخُولِ، فَرْضًا كَانَتْ أَوْ سُنَّةً».حوالہ: رد المحتار (شامی)، ج ٢، ص ٤٥٩، زکریا دیوبند؛ أحسن الفتاوى، ج ٣، ص ٤٨١۔