الجواب وباللہ التوفیق:-مذکور شخص نے جب وتر میں دعاء قنوت کی جگہ سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے اور یاد آنے پر اگر دعاء قنوت بھی لوٹائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر نہ لوٹائے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ قنوت سے مراد مطلقا دعا ہے اور التحیات میں بھی دعائیہ الفاظ موجود ہیں -
📖 📖 سئل عمر الحافظ عمن شرع في القنوت في الوتر فبعد ما قرا بعضها قرا الفاتحة بعضا منها سهوا، ثم عاد إلى قراءة القنوت هل يلزمه سجود السهو؟ قال: لا. (الفتاوى التاتارخانيه، كتاب الصلاة في سجود السهو:٣٩٨/٢،رقم: ٢٧٨٦)
📖 📖 قراءت قنوت قنوت الوتر وهو مطلق الدعاء اي القنوت الواجب يحصل بأي دعاء كان،(شامي كتاب الصلاة باب السجود السهو:١٦٣/٢،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- سردی کے موسم میں لحاف وغیرہ ناپاک ہوجائے تو صرف تر کپڑے سے پوچھ دینے سے پاک ہوجائے گا ؟ واضح رہے کہ اگر دھل دیا جاۓ تو خشک ہونے میں وقت لگتا ھو؟
- اگر کوئی شخص سفر شرعی مقدار سے دور جگہ پر ملازمت کرے اور وہ کبھی ہفتہ میں یا کبھی مہینہ میں یا کبھی پندرہ دن پر گھر آ جائے تو ایسے شخص کا ملازمت کی جگہ شرعا کیا حکم ہے؟
- کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل ہو جاتا ہے اور کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل نہیں ہوتا مدلل جواب تحریر کریں؟
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟