کفالت کرنے والے کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ لے پالک کے حقیقی والد کی جگہ اپنا نام لکھے، کیونکہ شریعت میں نسب کو حقیقی والد ہی کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر لے پالک کے حقیقی والد کا نام واضح طور پر ذکر کر دیا جائے، تو اس کے بعد گود لینے والے کا نام بطورِ کنیت یا عرف ذکر کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے حقیقی نسب کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ حوالہ: فتاویٰ قاسمیہ، ج 24، ص 695۔

📖 قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ (سورۃ الأحزاب: 5)وَأَرْشَدَ إِلَى أَنَّ الْأَوْلَى وَالْأَعْدَلَ أَنْ يُنْسَبَ الرَّجُلُ إِلَى أَبِيهِ نَسَبًا.تفسير القرطبي، الجامع لأحكام القرآن، ج 14، ص 199۔

📖 عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ».صحیح البخاری، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، ج 2، ص 1001۔

📖 وَلَوْ كَنَّاهُ الصَّغِيرَ بِأَبِيهِ بِكُنْيَةٍ أَوْ غَيْرِهَا، فَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ يُرِيدُونَ الْقَائِلَ وَالْمَعْنَى أَنَّهُ سَيَصِيرُ أَبًا فِي ثَانِي الْحَالِ، لَا الْمُحَقِّقَ فِي الْحَالِ.الفتاوى الهندية، الباب الثاني والعشرون، ج 5، ص 418۔