الجواب:-جمعہ کی اذان ثانی کے متعلق یہ حکم ہیں کہ وہ خطیب کے سامنے دیا جائے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان دی جاتی فقہاء کرام نے اس کے صراحت کی ہے اور سلف سے بھی یہی توارث چلا رہا ہے اور یہی افضل اور بہتر طریقہ ہے لیکن اگر کوئی دوسری یا تیسری صف میں یا دروزہ کے پاس کھڑے ہو کر امام کے سامنے اذان دے دے تو بھی کافی ہے البتہ پہلے صورت افضل اور بہتر ہے-
📖 واذا جلس على المنبر اذان بين يديه واقيم بعد تمام الخطبة بذلك جري التوارث كذا في "البحر الرائق"(الهندية:٢١٠/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند )
📖 وَيُؤَذَّنُ ثَانِيًا بَيْنَ يَدَيْهِ، أَيْ الْخَطِيبِ، أَيْ عَلَى سَبِيلِ السُّنِّيَّةِ، كَمَا يَظْهَرُ مِنْ كَلَامِهِمْ، إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَإِذَا أُقِيمَتْ أُقِيمَتْ... حوالہ: رد المحتار مع الدر المختار، ج 3، ص 38–39، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ط: زکریا، دیوبند۔
📖 واذا صعد الامام المنبر جلس واذان المؤذنون بين يدي المنبر وبذلك جري التوارث....(فتح القدير: ٦٧/٢،كتاب الصلاة، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- ہندوستانی زمینوں کی پیداوار پر عشر واجب ہے یا نہیں؟
- عورت کے غسل جنابت میں چوٹی کھولنا ضروری ہے یا نہیں
- واشنگ مشین میں ناپاک کپڑا پاک ہوگا یا نہیں؟
- ایک شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا بیوی میکے چلی گئی بیوی اور اس کے گھر والے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھے جبکہ شوہر طلاق دینا نہیں چاہ رہا تھا بالآخر دونوں جانب سے پنچایت بیٹھی اور طلاق نامہ لکھا گیا وکیل نے شوہر کے اور گواہوں کے بھی دستخط کرائے شوہر نے زبردستی فور میلٹی پوری کرنے کے لیے طلاق نامے پر دستخط کیے مگر شوہر راضی نہیں تھا لیکن وکیل نے دستخط کرانے کے ساتھ ساتھ زبانی بھی شوہر سے اس تحریر کو پڑھوایا، تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی جبکہ شوہر نے بخوشی دستخط نہیں کیے بلکہ اپنے آپ کو پریشانیوں سے بچانے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن بعد میں تحریر پڑھی ہے۔ برائے کرم جلد از جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
- کیا قبلہ کی طرف وضو خانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ احادیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت آئ ہے