الجواب:-اس صورت میں ملاوٹ کی وجہ سے خیار عیب نہیں ملے گا اس لیے کہ زیادتی کر دینے کی وجہ سے لیکن پرانا عیب نظر آنے کی وجہ سے نقصان کی تلافی کی جائے گی اس طرح تلافی کی جائے گی یعنی کپڑا خریداری میں جو بلا عیب والا کپڑا کی قیمت 100 کا ہے اور عیب والا کپڑا 80 روپیہ کا ہے تو عیب نظر آنے کی وجہ سے جو 20 روپیہ نقصان ہوا ہے وہ 20 روپیہ واپس کریں گے-
📖 لو باع المشتري الثوبَ كلَّه أو بعضَه، أو وهبه بعد القطع، لجواز ردِّه مقطوعًا لا مخيطًا، كما ...، وخاطه أو صبغه بأيِّ صبغٍ كان، أو التَّلَّ السويقَ بسمنٍ، أو خبز الدقيق... ثم اطَّلع على عيبٍ، رجع بنقصانه؛ لامتناع الرد بسبب الزيادة لحق الشرع، لحصول ...(رد المحتار على الدر المختار، 7/180–189، كتاب البيوع، باب خيار العيب، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وإن خاطه ثم وجد به عيبًا كان، فله أن يرجع بالعيب... وكذلك في السويق إذا لتَّه بالسمن أو العسل... وليس له أن يردَّ بالعيب ولا يرجع بنقصان العيب، كذا في «الذخيرة».(الفتاوى الهندية، 3/78، كتاب البيوع، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وإن قطع الثوب وخاطه وصبغه أحمر، أو لتَّ السويقَ بسمن، ثم اطَّلع على عيب، رجع بنقصانه؛ لامتناع الرد بسبب الزيادة.(الهداية، 3/65، كتاب البيوع، باب خيار العيب، نعيمية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم