الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں اگر اسکو معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اور پھر بھی دستخط کردیے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
📖 وإن كانت مرسومةيقع الطلاق نوي أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن ارسل الطلاق بأن كتب :أما بعد فأنت طالق ،فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة (شامی۔ كتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ،ج:3،ص:246، ط:سعید)
مزید متعلقہ سوالات
- ہندوستانی زمینوں کی پیداوار پر عشر واجب ہے یا نہیں؟
- عورت کے غسل جنابت میں چوٹی کھولنا ضروری ہے یا نہیں
- واشنگ مشین میں ناپاک کپڑا پاک ہوگا یا نہیں؟
- ایک شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا بیوی میکے چلی گئی بیوی اور اس کے گھر والے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھے جبکہ شوہر طلاق دینا نہیں چاہ رہا تھا بالآخر دونوں جانب سے پنچایت بیٹھی اور طلاق نامہ لکھا گیا وکیل نے شوہر کے اور گواہوں کے بھی دستخط کرائے شوہر نے زبردستی فور میلٹی پوری کرنے کے لیے طلاق نامے پر دستخط کیے مگر شوہر راضی نہیں تھا لیکن وکیل نے دستخط کرانے کے ساتھ ساتھ زبانی بھی شوہر سے اس تحریر کو پڑھوایا، تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی جبکہ شوہر نے بخوشی دستخط نہیں کیے بلکہ اپنے آپ کو پریشانیوں سے بچانے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن بعد میں تحریر پڑھی ہے۔ برائے کرم جلد از جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
- کیا قبلہ کی طرف وضو خانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ احادیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت آئ ہے