اگر ایک کورٹ سے ملنے والے طلاق نامہ پر سائن کرنے اور زبان سے طلاق نہی دے اور ناہی دل میں طلاق کا ارادہ ہوتو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی

الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں اگر اسکو معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اور پھر بھی دستخط کردیے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔

📖 وإن كانت مرسومةيقع الطلاق نوي أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن ارسل الطلاق بأن كتب :أما بعد فأنت طالق ،فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة (شامی۔ كتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ،ج:3،ص:246، ط:سعید)

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں