اگر ایک کورٹ سے ملنے والے طلاق نامہ پر سائن کرنے اور زبان سے طلاق نہی دے اور ناہی دل میں طلاق کا ارادہ ہوتو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی
الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں اگر اسکو معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اور پھر بھی دستخط کردیے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
📖 وإن كانت مرسومةيقع الطلاق نوي أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن ارسل الطلاق بأن كتب :أما بعد فأنت طالق ،فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة (شامی۔ كتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ،ج:3،ص:246، ط:سعید)
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟