👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
لوگوں کے چلنے پھرنے کی سہولت کے لیے شرعی مسجد کو اپنی جگہ سے مستقبل کر کے دوسری جگہ تعمیر کر دی جائے اور مسجد کی اصل جگہ میں عمارت اور گزرگاہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:-جب شرعی اعتبار سے ایک جگہ مسجد بن گئی تو اب وہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی لہذا لوگوں کے چلنے پھرنے کی سہولت کی خاطر شرعی مسجد کو اپنی جگہ سے منتقل کر کے دوسری جگہ بنانا جائز نہیں اور اصل جگہ کو گزرگاہ اور عمارت بنانا جائز نہ ہوگا -
📖 اذا بني مسجدا اذن للناس بالصلاة فيه جماعة فانه يصير مسجدا-(شامي: ٥٤٥/٦-زكريا)
📖 وفي فتاوى الحجة: لو صار احد مسجدين قديما وتراعي الى الحزاب فاراد اهل السكة بيو القديم وصرفه في المسجد الجديد فلانه لا يجوز-(هنديه: ٤١٠/٢ جديد)
📖 وقال ابو يوسف المسجد ابدا الى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نفله ونفله ماله الى مسجد اخر سواء كانوا يصلون فيه او لا وهو الفتاوى البحر الرائق :٤٢١/٣ زكريا-, مجمع الانهر: ٥٩٥/٢)
مزید متعلقہ سوالات
- تیل یا شہد ناپاک ہو جائے تو پاک کرنے کا کیا طریقہ مدلل بیان کریں؟
- استنجا کے لیے پانی کا استعمال شرعاً ضروری ہے یا نہیں؟
- میت کی قبر کھودی آج اور میت پوسٹ ماسٹم کے لئے گئی تھی اور وہ بول رہےہیں کی بوڈی کل ملے گی اب اس قبر کا کیا کریں؟
- کیا سرکاری زمین پر گاؤں والوں کے مسجد تعمیر کرنے سے وہ شرعی مسجد بن جائے گی؟
- کیا ہاتھ پیچھے باندھ کر چلنے کی ممانعت کسی حدیث سے ثابت ہے؟