نماز جمعہ کے لیے مسجد کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
الجواب:-نماز جمعہ کے جائز ہونے کے لیے مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے مسجد کے علاوہ بھی کسی گھر یا میدان میں جماعت ادا کرنا جائز ہے، البتہ صحت جمعہ کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ جگہ شہر یا قصبہ یا اتنا بڑا گاؤں ہو کہ وہاں روز مرہ کی ضروریات کی ساری چیزیں مہیا ہو-
📖 ويُشترط لصحتها: المِصرُ أو فناؤه، والسلطان، ووقتُ الظهر، فتبطل الجمعة بخروجه، والخطبةُ فيه كونُها قبلها، والجماعةُ، والإذنُ العامُّ... (الدر المختار مع رد المحتار، 3/5–25، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وأمّا الشرائطُ: فالمِصرُ الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت... (بدائع الصنائع، 1/583، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟