الجواب:- صورت مسئولہ میں ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر کوئی فرض چھوڑ دے تو قضاء کے ذریعہ تلافی کرنا ممکن ہو تو قضاء کرے گا ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی لوٹانا پڑے گا اور اگر سنت چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا ہے یعنی سجدہ سہو کی بغیر نماز صحیح ہو جائے گی اور اگر کوئی عمدا واجب چھوڑ دے تو سجدہ سہو سے کام نہیں چلے گا بلکہ اعادہ کرنا پڑے گا اور اگر بھول کر کوئی واجب چھوڑ دے تو سجدہ سہو کرنے سے اس کی تلافی ہو جائے گی-
📖 📖 فتحصل انها ثلاثة مواضع مشكل ولعلهم نظروا الى ان هذه الواجبات الثلاثة ادنى الواجبات فصلح ان يجبر لها سجود السهو ماله العمد....(البحر الرائق: ١٦٢/٢،كتاب الصلاة، اشرفية ديوبند )
📖 📖 الاصل في هذا ان المتروك ثلاثة انواع فرض وسنة وواجب ففي الاول امكنه التدارك بالقضاء يقضي والافسدت صلاته وفي الثاني لا تفسد لان قيامها بار كانها وقد وجدت ولا يجبر بسجدتي السهو وفي الثالث ان ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وان ترك عامدا، لا،(بالفتاوى الهندية:١٨٥/١،كتاب الصلاة ،الباب الثاني في سجود السهو،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
- نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو اور زکوۃ کی رقم نہ ہو تو کیا کرے
- لڑکی والوں کا رخصتی کے وقت دوست و احباب کو کھانا کھلانے کا حکم
- جمعہ کے جواز کے لیے تین آدمیوں کے علاوہ شہر کی شرط بھی ہے یا نہیں