الجواب:-نماز کے صحیح ہونے کی شرطوں میں سے یہ بھی ہے کہ کپڑا پاک ہونا ہے اس سے مراد پورا کپڑا اندر کا ہو یا باہر کا ہو سب مراد ہے مسؤلہ میں جو ہے بنیان ناپاک ہے اس صورت میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے نماز نہیں ہوگا یہاں اگر اندر کا بنیان پر تھوڑا یعنی مقدار معفو یا اس سے کم نجاست لگی ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے اور دیکھنے کی بعد اس حالت میں بھی نہ پڑھے-
📖 فلاحرام شرط ومعظم الطواف ركن وغيرها واجب.. (غنية الناسك: ٣١٦/١)،كذا في الهنديه: واما ركنها الطواف(٣٢١/١٠ زكريا ديوبند)
📖 تطهير النجاسة واجب من بدن اليصلى وتوبه.... لقوله تعالى وتيابك فطهر الخ اي في الصلاة....(هداية: ٦٨/١،كتاب الطهارة، زمزم ديوبند)
📖 ومنها طهارة الجسد والثوب والمكان....(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٢٠٨-٢٠٩،كتاب الصلاة، اشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- بینک یا کسی سے قرض لے کر حج کرنا شرعا کیسا ہے؟
- ایک عورت کی عادت چار دن ماہواری کی ہے۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد اس عورت کو ماہواری آئی اور چار دن پورے کر لیے، اس کے بعد وہ عادت کے مطابق پاک ہو گئی اور دو دن پاک رہنے کے بعد تیسرے دن اس نے خون دیکھا، تو اب یہ عورت حائضہ کہلائے گی یا نہیں؟
- تین سال بعد بچے کا نام تبدیل کرنا کیسا ہے؟
- نکاح کے وقت گواہوں کو ایجاب و قبول کا علم ہونا ضروری ہے؟
- مکان، دکان اور گاڑی پر قرآنی آیات یا دعائیں لکھوانے کا شرعی حکم