الجواب:-گواہوں کا عاقدین کی طرف سے ایجاب و قبول کا ساتھ ساتھ سننا ضروری ہے اور عورت سے با وقت اجازت گواہوں کا موجود ہونا اور سننا صرف مستحب ہے ضروری نہیں ہے البتہ نکاح پڑھاتے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہیں ـ
📖 وشرطُ السماعِ: كلُّ من العاقدينِ لِفَظَ الآخر، ليتحقَّق رضاهما، وشرطُ حضور شاهدين، أي يشهدان على العقد، حرَّين، أو حرٍّ وحرَّتين، مكلَّفين، سامعين قولَهما معًا على الأصح، فاهمين...(رد المحتار على الدر المختار، 4/84–92، كتاب النكاح، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 ولا ينعقد نكاحُ المسلمين إلا بحضور شاهدين حرَّين، عاقلين، بالغين، مسلمين، رجلين أو رجلٍ وامرأتين، عدولًا كانوا أو غيرَ عدولٍ، أو محدودين في القذف.(الهداية، 1/328، كتاب النكاح، زمزم، ديوبند)
📖 ومنها: سماعُ كلٍّ من العاقدين كلامَ صاحبه... ومنها: سماعُ الشاهدين كلامَهما معًا... ولو سمعا كلامَ أحدهما دون الآخر، أو سمع أحدُهما كلامَ أحدهما والآخرُ كلامَ الآخر، لا يجوز النكاح...(الفتاوى الهندية، 1/332–333، كتاب النكاح، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
- نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو اور زکوۃ کی رقم نہ ہو تو کیا کرے
- لڑکی والوں کا رخصتی کے وقت دوست و احباب کو کھانا کھلانے کا حکم
- جمعہ کے جواز کے لیے تین آدمیوں کے علاوہ شہر کی شرط بھی ہے یا نہیں