جواب:-صورت مسئولہ میں نکاح تو درست ہو جائے گا البتہ تعلیم قران خدمت وغیرہ کو مہر بنانا شرعا درست نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہے حالانکہ کلام پاک میںں اللہ تعالی نے فرمایا کہ نکاح مال کے عوض طلب کرو یعنی مہر مال ہونا چاہیے اور تعلیم قران وغیرہ مال نہیں ہے لہذا اس کو مہر بنانا بھی درست نہیں ہوگا یہ تفصیل احناف کے نزدیک ہے اور مہر مثل واجب ہوگا احناف کے نزدیک اور امام شافع نے تعلیم قران وغیرہ کو مہر بنانے کو جائز قرار دیا ہے
📖 وفي خدمةِ زوجٍ حدٌّ سنةٌ للأمْهار... وفي تعليم القرآن، أي يجب مهرُ المثل فيما لو تزوَّجها على أن يعلِّمها القرآن أو نحوه من الطاعات... ولهذا ذكر في فتح القدير هنا أنه لما جوَّز الشافعي أخذ الأجر...(رد المحتار على الدر المختار، 4/240، كتاب النكاح، باب المهر، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 أو تزوَّجها بتعليم القرآن؛ لأنه ليس بمال، أو بخدمة الزوج الحر لها سنةً؛ لأن الخدمة ليست بمال، لما فيه من قلب الموضوع، فيجب مهر المثل... وعند الشافعي: كل ما يجوز أخذ العوض عنه يصلح مهرًا، فتعليم القرآن... والعفو عن القصاص يصلح مهرًا عنده...(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، 1/509–512، كتاب النكاح، فقيه الأمة، ديوبند)
📖 وإن تزوَّجها ... على خدمته سنةً أو تعليم القرآن، جاز النكاح، ولها مهر المثل. (الاختيار لتعليل المختار، 3/130، كتاب النكاح، فقيه الأمة، ديوبند)