الجواب:-محرمات ابدیہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے اور ان میں تین قسم کی عورت داخل ہے ہیں(1) نسب کی وجہ سے حرام ہوتا ہے اپنے اصول و فروع اور اپنے ماں باپ کے وصول و فروع ہیں (2) رضاعت کی وجہ سے وہی عورتیں حرام ہوتی ہے جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہے(3) مصاہرت کی وجہ سے یعنی نکاح کی وجہ سے یہ عورتیں حرام ہیں ساس بیوی کی بیٹی بیٹے کی بیوی پوتے کی بیوی وغیرہ

📖 أسبابُ التحريم أنواعٌ: قرابةٌ، ومصاهرةٌ، ورضاعٌ... حَرُمَ على المتزوِّج، ذكرًا كان أو أنثى، نكاحُ أصوله وفروعه، علا أو نزل، وبنتُ أخيه وأخته، وبنتُها، وعمته وخالته، وحَرُمَ بالمصاهرة بنتُ زوجته الموطوءة، وأمُّ زوجته...(الدر المختار مع رد المحتار، 4/91–105، كتاب النكاح، مكتبة زكريا، ديوبند)

📖 المحرَّمات بالنسب، وهنَّ الأمهاتُ والبناتُ والأخواتُ... والمحرَّمات بغير النسب، وهي أربعُ فِرَق: أمهاتُ الزوجات... وبناتُ الزوجة...(الفتاوى الهندية، 1/339، كتاب النكاح، مكتبة أشرفية، ديوبند)