الجواب:-نیند کے حالت میں طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی (اور نیم میں خوابی کی حالت میں بے اختیار بغیر مطلب سمجھے طلاق کے الفاظ نکلنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی) اور خود بخود دل میں یعنی محض خیال سے طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق واقع ہونے کے لیے الفاظ کا ظاہر کرنا اگر صحیح سالم ہو اور گونگا ہو تو اشارہ ضروری ہے-
📖 ولا يقع طلاقُ ... والنائمُ... هكذا في فتح القدير.(الفتاوى الهندية، 1/420، كتاب الطلاق، مكتبة زكريا، ديوبند) لا يقع الطلاقُ ... والنائمُ...(رد المحتار على الدر المختار، 4/449–453، كتاب الطلاق، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنَّ الله عزَّ وجلَّ تجاوزَ لأمَّتي عمَّا حدَّثت به أنفسَها، ما لم تعمل أو تتكلَّم به». (صحيح مسلم، 1/78، كتاب الإيمان)
📖 لو أجرى الطلاقَ على قلبه، وحرَّك لسانه من غير تلفُّظٍ يُسمع، لا يقع... (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص 219)
مزید متعلقہ سوالات
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم
- سورۂ ص میں سجدہ اناب پر ہے یا اگلی آیت پر؟