👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟

جواب:-ولیمہ کرنا شرعا سنت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس میں اپنی وسعت کے مطابق ریا و نمود سے بچتے ہوئے احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا چاہیے اور اس کے لیے افضل وقت رخصتی کے بعد ہے کسی مصلحت کے پیش نظر دو چار دن بعد بھی ولیمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اتنی تاخیر نہ ہوں کہ بشاشت نکاح باقی نہ رہے-

📖 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ». حوالہ: صحيح البخاري، ج ٥، ص ١٩٨٢، رقم الحديث: ٤٨٧، باب الوليمة ولو بشاة۔

📖 وَوَلِيمَةُ الْعُرْسِ سُنَّةٌ، وَهِيَ مَثُوبَةٌ عَظِيمَةٌ، وَهِيَ ... إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِامْرَأَةٍ، يَنْبَغِي أَنْ يَدْعُوَ الْجِيرَانَ وَالْأَقَارِبَ وَالْأَصْدِقَاءَ ... حوالہ: الفتاوى الهندية، ج ٥، ص ٣٤٢، كتاب النكاح، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 وَحَدِيثُ أَنَسٍ فِي هَذَا الْبَابِ صَرِيحٌ فِي أَنَّهَا، أَيْ: الْوَلِيمَةَ، بَعْدَ الدُّخُولِ؛ لِقَوْلِهِ فِيهِ: «أَصْبَحَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ»، فَرَعَى الْقَوْمَ ... حوالہ: إعلاء السنن، ج ١١، ص ١٦–١٧، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں