الجواب:- وہ سامان جو صرف پوجا پاٹ اور مشرکانہ مراسم کی ادائی میں استعمال کی جاتی ہے ان کی تجارت کسی مسلمان کے لیے شرعا جائز نہیں ہے اس لیے کہ یہ ایک اعتبار سے شرک و بت پرستی میں تعاون ہے البتہ وہ چیزیں جنہیں غیر مسلم پوجا پات کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے دیگر عام کاموں میں استعمالات بھی ہیں تو ایسی سامان خرید و فروخت کر سکتا ہے کوئی حرج نہیں-
📖 ولا بأس بأن يؤاجر دارًا من الذمي يسكنها، فإن شرب فيها الخمر... لم يلحق المسلم إثمٌ في شيءٍ من ذلك؛ لأنه لم يؤاجرها لذلك، والمعصية في فعل المستأجر..(المبسوط للسرخسي، 16/43، كتاب البيوع، باب الإجارة الفاسدة، غفارية، کوئٹہ)
📖 لا يُكره بيعُ الدنانير من النصراني، والقلنسوة من المجوسي؛ لأن ذلك إذلالٌ لهما... (تبيين الحقائق، 4/65، كتاب الكراهية، فصل في البيع، دار الكتب العلمية، بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم