امام صاحب نے چار رکعت والی نماز میں قعدہ اولی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا مقتدیوں کے لقمہ دینے پر واپس آیا تو سجدہ سہو پر کام چل جائے گا یا نہیں یا نماز کا ارادہ لازم ہوگا؟
📖 📖 عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام الإمام في الركعتين، فإن ذكر فصل أن يستتمم قائما فليجلس وان استتمم قائما فلا يجلس ويسجد سجدتى السهو.(السنن الكبري للبيهقي:٢٩٨/٣، كتاب الصلاة ،باب من سها فقام من اثنتين،دار الكفر) (سنن الدار قطني:٣٦٧/١،دار الكتب العلمية)
📖 📖 وان استقام قائما لا يعود لا شتغاله بفرض القيام ويسجد للسهو لترك الواجب فلو عاد إلى القعود بعد ذلك تفسد صلوته لرقض الفرض لما ليس بفرض وصححه... وقيل لا تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لنا خير الواجب وهو الا مشبه كما حققه الكمال وهو الحق وفي الشامية ما في المبتغي من ان القول بالفساد غلط ؛ لأنه ليس بترك بل هو تاخير كما لو سها عن السورة فركع ؛ فإنه برفض الركوع ويعود الى القيام و يقرأ (در مختار مع الشامي، كتاب الصلاة ،كراچی٨٤/٢٠ ،زكريا ٥٤٩/٢)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟