الجواب وبالله التوفيق: ذکر کردہ صورت میں صدقہ کے لیے الگ رکھی ہوئی رقم کس شخص کو بطورِ قرض دینا جائز ہے۔
📖 لَا يُشْتَرَطُ الدَّفْعُ مِنْ عَيْنِ مَالِ الزَّكَاةِ، وَلِذَا لَوْ أَمَرَ غَيْرَهُ بِالدَّفْعِ عَنْهُ جَازَ. حوالہ: رد المحتار، كتاب الزكاة، مطلب: في زكاة ثمن المبيع وفاء، ج ٣، ص ١٨٩، ط: دار عالم الكتب، الرياض۔
📖 وَلَمْ يُشْتَرَطْ أَيْضًا الدَّفْعُ مِنْ عَيْنِ مَالِ الزَّكَاةِ؛ لِمَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ أَنَّهُ لَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا بِالدَّفْعِ عَنْهُ أَجْزَأَهُ.حوالہ: البحر الرائق، كتاب الزكاة، ج ٢، ص ٣٧٠، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔
مزید متعلقہ سوالات
- گھر پر پیتل کے برتن ہیں کچھ برتن استعمال ہوتے ہیں اور کچھ برتن کئی سال سے ایسے ہی رکھے ہوۓ ہیں؟؟ تو اب ان میں سے کن برتنوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟
- ڈاکٹر کا مریض بھیجنے کے بدلے کمیشن لینا جائز ہے؟
- سنن مؤکدہ میں تحیۃ المسجد یا نفل کی نیت کرسکتے ہیں؟
- کیا نبی کریم ﷺ نے کلیجی ناپسند فرمائی تھی؟
- کیا نفلی روزے میں خالص سیاہ خضاب کر سکتے ہیں یا نہیں؟