👁دیکھنے والوں کی تعداد:3

کیا سرکاری زمین پر گاؤں والوں کے مسجد تعمیر کرنے سے وہ شرعی مسجد بن جائے گی؟

الجواب:-صورت مسئولہ میں سرکاری زمین پر بنائی گئی مسجد شرعی نہیں ہے اس لیے کہ یہ غیر کی جگہ پر مسجد بنا لی گئی ہے لہذا جب تک معاوضہ ادا نہ کر دیا جائے تو نماز مکروہ ہوگی اور مسجد بھی غیر شرعی ہوگی لیکن حائضہ اور نفساء کے حق میں مسجد شرعی ہوگی لہذا اگر وہ اس حالت میں گزرے گی تو گناہ گار ہوگی-

📖 لَوْ غَصَبَ أَرْضًا فَبَنَى فِيهَا أَوْ غَرَسَ، فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْأَرْضِ أَكْثَرَ، قَلَعَهَا وَرَدَّهَا، وَإِلَّا ضَمِنَ لَهُ قِيمَتَهَا ...حوالہ: الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص ١٢٤، ط: قديم۔

📖 وَكَذَا تُكْرَهُ الصَّلَاةُ فِي أَرْضٍ مَغْصُوبَةٍ أَوْ لِلْغَيْرِ، وَلَوْ مَزْرُوعَةً أَوْ مَكْرُوبَةً ... حوالہ: الدر المختار، ج ١، ص ٨١، كتاب الصلاة، ط: كراتشي۔

📖 عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ». حوالہ: السنن الكبرى للبيهقي، ج ٨، ص ٥٠٦، قبل باب: «مَنْ غَصَبَ جَارِيَةً فَبَاعَهَا»، رقم الحديث: ١١٧٤٠، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں