الجواب:-ایساہی اگر آدمی پانی پیتا تو وہ پانی ناپاک نہ ہوتا اب آدمی شراب پی کر جب پانی پی تو اس وقت پانی ناپاک ہو جائے گا کیونکہ ظاہری ناپاک دیکھائی دے رہا ہے یعنی شراب جو ہے وہ ناپاک ہے جب آدمی اس کو پی کر پانی پیا اب پانی کے ساتھ شراب بھی مل گیا اس لیے ناپاک ہے-

📖 سُؤْرُ الْآدَمِيِّ طَاهِرٌ، وَيَدْخُلُ فِي هَذَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ وَالْكَافِرُ، إِلَّا سُؤْرَ شَارِبِ الْخَمْرِ، وَمَنْ دُمِيَ فُوهُ إِذَا شَرِبَ عَلَى فَوْرِ ذَلِكَ فَإِنَّهُ نَجَسٌ، وَإِنْ ابْتَلَعَ رِيقَهُ مِرَارًا طَهُرَ فَمُهُ عَلَى الصَّحِيحِ، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ.(فتاویٰ ہندیہ: 1/76، کتاب الطہارة، زکریا دیوبند)

📖 وَشَارِبُ خَمْرٍ فَوْرَ شُرْبِهَا، وَلَوْ شَارِبُهُ طَوِيلًا لَا يَسْتَوْعِبُهُ اللِّسَانُ، فَنَجِسٌ وَلَوْ بَعْدَ زَمَانٍ.رد المحتار على الدر المختار (شامی)، كتاب الطهارة، باب المياه، ج 1، ص 382–383، مکتبہ زکریا دیوبند۔

📖 وَرُوِيَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَرِبَتْ مِنْ إِنَاءٍ فِي حَالِ حَيْضِهَا، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَهُ عَلَى مَوْضِعِ فَمِهَا حُبًّا لَهَا فَشَرِبَ، وَلِأَنَّ سُؤْرَهُ مُتَحَلِّبٌ مِنْ لَحْمِهِ، وَلَحْمُهُ طَاهِرٌ، فَكَانَ سُؤْرُهُ طَاهِرًا، إِلَّا فِي حَالِ شُرْبِ الْخَمْرِ؛ لِنَجَاسَةِ فَمِهِ.(بدائع الصنائع: ٢٠١/١، كتاب الطهارة، أحكام السؤر، مكتبة أشرفية ديوبند)