شراب پینے والے کے جھوٹے پانی کا شرعی حکم
📖 سُؤْرُ الْآدَمِيِّ طَاهِرٌ، وَيَدْخُلُ فِي هَذَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ وَالْكَافِرُ، إِلَّا سُؤْرَ شَارِبِ الْخَمْرِ، وَمَنْ دُمِيَ فُوهُ إِذَا شَرِبَ عَلَى فَوْرِ ذَلِكَ فَإِنَّهُ نَجَسٌ، وَإِنْ ابْتَلَعَ رِيقَهُ مِرَارًا طَهُرَ فَمُهُ عَلَى الصَّحِيحِ، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ.(فتاویٰ ہندیہ: 1/76، کتاب الطہارة، زکریا دیوبند)
📖 وَشَارِبُ خَمْرٍ فَوْرَ شُرْبِهَا، وَلَوْ شَارِبُهُ طَوِيلًا لَا يَسْتَوْعِبُهُ اللِّسَانُ، فَنَجِسٌ وَلَوْ بَعْدَ زَمَانٍ.رد المحتار على الدر المختار (شامی)، كتاب الطهارة، باب المياه، ج 1، ص 382–383، مکتبہ زکریا دیوبند۔
📖 وَرُوِيَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَرِبَتْ مِنْ إِنَاءٍ فِي حَالِ حَيْضِهَا، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَهُ عَلَى مَوْضِعِ فَمِهَا حُبًّا لَهَا فَشَرِبَ، وَلِأَنَّ سُؤْرَهُ مُتَحَلِّبٌ مِنْ لَحْمِهِ، وَلَحْمُهُ طَاهِرٌ، فَكَانَ سُؤْرُهُ طَاهِرًا، إِلَّا فِي حَالِ شُرْبِ الْخَمْرِ؛ لِنَجَاسَةِ فَمِهِ.(بدائع الصنائع: ٢٠١/١، كتاب الطهارة، أحكام السؤر، مكتبة أشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟