ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
الجواب وبالله التوفيق: جس معین تاریخ میں آپ پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اس دن آپ کی ملکیت میں جتنی رقم ہوگی اسی کی زکوۃ آپ پر واجب ہوگی، اور اس تاریج کے بعد جو مزید مال آیا ہے اس کو سالِ گزشتہ کی زکوۃ میں نہیں جوڑا جائے گا؛ بلکہ اگلے سال مقررہ تاریخ میں جو مال موجود ہوگا اسی کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں پانچ رمضان میں آپ دو لاکھ کے مالک ہیں تو صرف دو لاکھ پر زکوٰۃ واجب ہوگی، پانچ رمضان کے بعد جو مال میں اضافہ ہوا ہے اس کی زکوٰۃ اگلے سال پانچ رمضان میں موجودہ مال پر واجب ہوگی۔
📖 «فَإِنِ اسْتَفَادَ بَعْدَ حَوَلَانِ الْحَوْلِ، فَإِنَّهُ لَا يُضَمُّ، وَيُسْتَأْنَفُ لَهُ حَوْلٌ آخَرُ بِالِاتِّفَاقِ». حوالہ: الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الأول، ج1، ص193، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔
📖 «وَأَمَّا الْمُسْتَفَادُ فِي أَثْنَاءِ الْحَوْلِ، فَيُضَمُّ إِلَى مُجَانِسِهِ، وَيُزَكَّى بِتَمَامِ الْحَوْلِ الْأَصْلِيِّ». حوالہ: مراقي الفلاح، كتاب الزكاة، ص715، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔