👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
شوہر نے جبرو اکراہ کی صورت میں فون پر اپنی بیوی سے کہا" میں نے دو طلاق دے دیا" تو شرعاً کیا حکم ہے ؟
الجواب وبالله التوفيق: زبردستی ڈرا دھمکاکر طلاق دلوانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، اگر چہ وہ طلاق دینے پر رضامند نہ ہو پھر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جبرو اکراہ کی صورت میں فون پر اپنی بیوی سے کہا " میں نے دو طلاق دے دیا " تو اس سے بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوجائیں گی۔
📖 📖 عن عمر بن عبد العزيز يقول: طلاق السكران والمكره جائز. (طحاوي شريف/كتاب الطلاق/باب طلاق المكره، ٤٦٧/٢، رقم الحدیث: ٤٥٥٧، ط: دارالكتب العلمية بیروت)
📖 📖 وإن أكره على طلاق امرأته أو عتق عبده، ففعل وقع ما أكره عليه عندنا. (الهداية/كتاب الإكراه/فصل وإن اكره أن يأكل الميتة، ٣٥٠/٣، ط: أشرفية ديوبند) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟