الجواب وبالله التوفيق: زبردستی ڈرا دھمکاکر طلاق دلوانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، اگر چہ وہ طلاق دینے پر رضامند نہ ہو پھر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جبرو اکراہ کی صورت میں فون پر اپنی بیوی سے کہا " میں نے دو طلاق دے دیا " تو اس سے بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوجائیں گی۔
📖 📖 عن عمر بن عبد العزيز يقول: طلاق السكران والمكره جائز. (طحاوي شريف/كتاب الطلاق/باب طلاق المكره، ٤٦٧/٢، رقم الحدیث: ٤٥٥٧، ط: دارالكتب العلمية بیروت)
📖 📖 وإن أكره على طلاق امرأته أو عتق عبده، ففعل وقع ما أكره عليه عندنا. (الهداية/كتاب الإكراه/فصل وإن اكره أن يأكل الميتة، ٣٥٠/٣، ط: أشرفية ديوبند) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟