سوال:-اب زمزم سے وضو اور غسل کرنا شرعا کیسا ہے؟
الجواب:-اب زمزم سے وضو اور غسل تبرکا کرنا شرعا جائز اور درست ہے اور خلاف ادب بھی نہیں۔ ہے لیکن اب زمزم سے استنجاء کرنا خلاف ادب اور مکروہ ہے
📖 شرب من ماء زمزم (تحته في الشامي): ما سحابه وجهه وراسه وجسده صابا منه على جسده ان امكن (شامي: ٥٤٦/٣،كتاب الحج، زكريا ديوبند)
📖 يجز الوضوء والغسل بماء زمزم عندنا من غير كراهة بل ثوابه أكثر.... ان كان على طهارة للتبرك، فلا ينبغي ان يغتسل به جنب ولا محدث ولا في مكان نجس ولا يستنجي به ولا يزال به نجاسة حقيقة وعن بعض العماء تحرير ذلك(حاشية الطحطاوي:٢٢،كتاب الطهارة،دار الكتاب ديوبند)
📖 لا يكره الوضوء والاغتسال بماء زمزم (البناية:٣٦٦/١،كتاب الطهارة،باب الماء الذي يجوز به الوضوء مكتبه الشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟