جواب:-اگر کسی جانور میں قربانی کرنے والوں کے ساتھ عقیقہ کرنے والا شریک ہو جائے تو یہ شرعا درست ہے سورۃ مسئلہ کے مطابق قربانی اور عقیقہ کی دعاؤں میں ترتیب یہ ہے کہ جانور پر چھری پھیرتے ہوئے تمام شرکا کے نام پکارنا اور قربانی اور عقیقہ کے بارے میں زبان سے الفاظ کہنا ضروری نہیں صرف ذبح کرتے وقت تمام شرکاء کی جانب سے ذبح کرنے کا خیال دل میں رکھنا کافی ہے پس بسم اللہ اللہ اکبر کہتے ہوئے ذبح کرنا کافی ہے اور قربانی اور عقیقہ کے بعد مخصوص دعائے پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اس لیے اگر بڑے جانور میں قربانی اور عقیق دونوں کے حصے ہو تو قربانی اور عقیقہ دونوں کی دعا ذبح کے بعد پڑھی جا سکتی ہے اور ذبح کرتے وقت قربانی اور عقیقہ کی دعائیں ایک ساتھ بھی پڑھی جا سکتی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ عقیقہ کی دعا پڑھتے وقت ان لوگوں کا نام لے جن کا عقیقہ ہے اور قربانی کرتے وقت ان افراد کا نام لے جن کی قربانی ہے

📖 ولو نوى بعد الشركاء الاضحية وبعضهم هدي المتعة وبعضهم هدي القران وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم حقيقه لولادة ولد له في عامة ذلك جزا عن الاكل في ظهر الرواية--//قاضي خان على هامش الهنديه،ج:٣,ص:٣٥٠, كتاب الاضحية ,الرشيديه

📖 وكذلك ان اراد بعضهم العقيقة عن ولد وولد له من قبل ذلك محمد رحمه الله تعالى في نوادر الضحايا--//الهنديه،ج:٥,ص:٣٥١, باب الثامن ،كتاب الاضحية ،زكريا،ديوبند

📖 ولو اراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لان ذلك جهة التقريب بالشكر على نعمة الولد--//شامي،ج:٦,ص:٣٢٦, كتاب الاضحية سعيد

مزید متعلقہ سوالات