اگر سات شرکا میں سے کسی شریک کا روپیہ سود کا ہو تو ایسی صورت میں قربانی کا شرعا کیا حکم ہے؟
الجواب:-قربانی میں اگر کوئی ایک شریک ایسا ہو جس کا روپیہ سود یا امدانی صرف حرام ہو جو سب کو پتہ ہے تو کسی کا بھی قربانی درست نہیں ہوگی لیکن اگر باقی شرکاء کو اس ایک شریک کی امدانی کا بالکل پتہ نہیں تو اس صورت میں چونکہ وہ لوگ بے قصور ہیں اس لئے باقی کی قربانی درست ہو جائے گی۔
📖 وان كان الشريك ستة نصرانيا او مريد اللحم لم يجز عن واحد منهم لانه الاراقة لا تتجزا--//شامي،ج٩،ص:٤٧٢،كتاب الاضحية، زكريا،ديوبند
📖 كل الربو او كاسب الحرام ابدي اليه او اضافة وغالب ماله حرام لا يقبل ولا ياكل ولم يخبره عن ذلك المال اصله حلال ورثه او استقرضه--//الهنديه،ج:٥,ص،٣٤٣, كتاب الكراهيه ,زكريا, دوبند
📖 عن ابي هريره قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ايها الناس ان الله الطيب لا يقبل الا طيبا،وان الله عمر المؤمنين لما امر به المرسلين وقال يا ايها الرسول كلوا من الطيبات واعملوا الصالحا اني بما تعملون عليم--//مسلم ٢/,٧٠٣
مزید متعلقہ سوالات
- فوڈ کلر حلال ہے یا حرام؟
- غیر مسلم اگر مسجد کے لیے چٹائی دے تو لے سکتے ہیں؟
- ایک خاتون کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے اور دوتولہ سونا تو کیا ضم کیا جائے گا؟ یا صرف پیسہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ؟ یا تیسری کوئی شکل ہوگی؟
- رمضان میں عصر کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟
- شہد کے بالٹے میں چوہا گرگیا اور وہ مرا نہیں زندہ تھا پھر اسکو اوپر والے حصے سے پکڑ کر نکال دیا جسکے ساتھ بہت سا شہد بھی لگا تھا اب اسکی پاکی کی اور کیا صورت ہے