سوال:-ایک نوجوان گنجے نے وگ لگائی تو اس کے لیے ہر وضو اور غسل میں اتار دینا لازم ہے یا اسی پر مسح کر سکتا ہے؟
الجواب:-انسانی بالوں سے بنی ہوئی وگ لگانا ہر صورت ناجائز ہے خواہ وگ ایسا ہو جیسے بآسانی اتارا جا سکتا ہو یا بذریعہ آپریشن سر میں فٹ کر دیا گیا ہو- لیکن انسان کے علاوہ دیگر حیوانات یا مصنوعات سے بنی ہوئی وگ دو طرح کی ہے، (1) آپریشن وغیرہ کے ذریعہ سر پر اس طرح فٹ کر دیا جائے کہ وہ سر سے جدا نہ ہو سکے، اسی حیثیت جسم کے مستقل عضو کی ہے وضو کرتے وقت اس پر مسح کر لینا کافی ہے اور (2) دوسری قسم جیسے بآسانی اتارا جا سکتا ہو وہ تو ٹوپی کے حکم میں ہے وضو میں اس کو اتار کر مسح کرنا ضروری ہے-
📖 والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الغسل وقيل كل ذلك.... ومواضع الضرورة مستثنياة عن قواعد الشرع(هندية:٦٤/١،كتاب الطهارة، اشرفيه ديوبند)
📖 ولا يجوز المسح على القلنسوة والعمامة(هنديه: ٥٦/١،كتاب الطهارة اشرفي)
📖 ولا يجوز المسح على العمامة ولا القلنسوة : لأنها يمنعان وصول الماء الشعر(بدائع الصنائع:٧١/١،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟