الجواب:-کنائی الفاظ سے دیانتہ وقوع طلاق کے لیے نیت ہر حال ضروری ہے خواہ مذاکرہ طلاق ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو البتہ قضاء مذاکرہ طلاق کی صورت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جائے گی لیکن کچھ کنائی الفاظ ایسے ہیں کہ بغیر نیت اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے مثلا اعتدى،استبرى رحمك أنت واحدة….. بشرط کے وہ حالت غصہ میں کہا ہو یعنی غصہ کی حالت میں ان الفاظ سے بلا نیت اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی قضاء اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
📖 بخلاف الفاظ الاخير اي ما يتعين للجواب لانها وان احتملت الطلاق غيره ايضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والسب...... حال الغضب تعينت الحال دالة على ارادة الطلاق فترجح......(شامي: ٥٣٣/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)
📖 وفي حالة الغضب: يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فيما يصلح للطلاق..... كقوله اعتدي اختيار...... فانه لا يصدق فيها لان الغضب يدل على ارادة الطلاق.......(هدايه: ٣٩٢/٢،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)
📖 الفصل الخامس: في الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة الحال...... وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي.....(هنديه: ٤٤٢/١،كتاب الطلاق ،اشرفيه ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟