الجواب:-لغوی اور اصطلاحی اعتبار سے ماء مستعمل وہ ہے کہ جس سے حدث کو زائل کیا گیا ہو یا بدن میں استعمال کیا گیا ہو اور عضو سے علاحدہ ہوتے ہی اس کو مستعمل کا حکم دے دیا جائے گا اس سے پہلے اس کو مستعمل نہیں کہا جائے گا-
📖 الماء المستعمل ما ازيل به حدث او استعمل في البدن على وجه القربة ومتى يصير الماء مستعملا الصحيح انه كما زال عن العضو صار مستعملا(هداية:٢٢/١)
📖 الماء المستعمل: كل ما ازيل به الحدث واستعمل في البدن على وجه اتقرب(التعريفات الفقهية:٢٦٩، تهانوى ديوبند)
📖 المستعمل: كل ما ازيل به الحدث او استعمل في البدن على وجه القربة(الباب في شرح الكتاب:٢٣/١،مكتبة العكمية،بيروت وكذا)
مزید متعلقہ سوالات
- قربانی کے لیے خریدا ہوا جانور تبدیل کرنا جائز ہے یا نہیں
- کیمرہ سے تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- میں نے تجھے چھوڑ دیا کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟شوہر کہتا ہے کہ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ان الفاظ کے ذریعے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
- ایک شخص نے قربانی میں ایک بھینس خریدی بعد میں پاتا چلا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے تو اس بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں نیز قربانی کے بعد بھینس کے پیٹ سے اگر بچہ نکلے تو اس کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
- سعی کا شرعی طریقہ مرد اور عورت کے لیے کیا ہے