سوال:-لغوی اور اصطلاحی اعتبار سے ماء مستعمل کسے کہتے ہیں وضاحت کریں؟
الجواب:-لغوی اور اصطلاحی اعتبار سے ماء مستعمل وہ ہے کہ جس سے حدث کو زائل کیا گیا ہو یا بدن میں استعمال کیا گیا ہو اور عضو سے علاحدہ ہوتے ہی اس کو مستعمل کا حکم دے دیا جائے گا اس سے پہلے اس کو مستعمل نہیں کہا جائے گا-
📖 الماء المستعمل ما ازيل به حدث او استعمل في البدن على وجه القربة ومتى يصير الماء مستعملا الصحيح انه كما زال عن العضو صار مستعملا(هداية:٢٢/١)
📖 الماء المستعمل: كل ما ازيل به الحدث واستعمل في البدن على وجه اتقرب(التعريفات الفقهية:٢٦٩، تهانوى ديوبند)
📖 المستعمل: كل ما ازيل به الحدث او استعمل في البدن على وجه القربة(الباب في شرح الكتاب:٢٣/١،مكتبة العكمية،بيروت وكذا)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟