جواب:-جمعرات کے روز سفر حج کا اغاز کرنا مسنون ہے جب سفر کا ارادہ ہو تو نہا دھو کے وضو کر کے اپنے گھر میں دو رکعت نماز سفر کی نیت سے پڑھے اور اس طرح گھر سے نکلے گویا دنیا چھوڑ کر جا رہا ہے دوران سفر ذکر اور دعا کی کثرت کرے کیونکہ مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے سفر میں غصہ گرمی سے اجتناب کرے اور نرم روئی اور حسن خلق کا مظاہرہ کریں سفر میں اکیلے رہنے سے بچے البتہ رفقاء کے ساتھ رہنے کا اہتمام کرے کیونکہ اکیلے ہونے کی وجہ سے بسا اوقات بہت پریشانی اٹھانی پڑتی ہے اور اشیاء ممنوعہ یہ ہے کہ فسق و جدال یعنی جھگڑا سے بچنا چاہیے سلے ہوئے کپڑے ٹوپی پگڑی وغیرہ کو پہننے سے پرہیز کرنا جماع سے دور رہنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

📖 ومسنونها ان يصلي ركعتين ويدع بالدعاء المعروف وبجردي سفره عن التجارة والرياء والسمعة والفخر وركوب الجمل افضل ولا يسعي خلفه ولا يماكسي في شراء الادوات و يودع اهله وراخوانه ويستحلهم ويطلب دعائهم ويستحب ان يجعل خروجه يوم الخمس (فتح القدير ٤١٢-٤١٣/٢ كتاب المناسك دار الكتاب العلمية)

📖 ويستحب ان يجعل خروجه يوم الخمس اقتداء به عليه السلام ويودع اهله واخوانه ويستحلم ويطلب دعائهم ....... و يخرج خروج خارج من الدنيا ويصلي ركعتين قبل ان يخرج من بيته وكذا بعد الرجوع الى بيته (الهنديه-/٣٠٠/٣ كتاب المناسك مكتبه الاتحاد ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات