چندہ لے کر حج کرنا شرعا کیسا ہے؟
جواب:-غریب کمزور لوگوں پر نہ حج فرض ہے نہ لازم اور نہ ہی اس کو حج میں بھیجنے کے لیے چندہ جمع کرنا شرعی طور پر جائز ہے یعنی چند کر کے حج کرنا شراب جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم ۔
📖 ولو وهب له مال لحج به قوله سواء كان الوهم ممن تعتبر منه كالاجانب اولا تعتبر كالابوين والمولودين(فتح القدير،كتاب الحج دار الفكر مصري قديم:٤١٠/٢)(زكريا ٤١٦/٢)
📖 ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا ومن كفر فان الله غني عن العالمين (صوره ال عمران: ٩٧)
📖 وقد اختلف في حج الفقير فقاله اصحابنا والشافعي: لا حج عليه (احكام القران ،باب فرض الحج:٢٥/٢)
مزید متعلقہ سوالات
- شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور بیوی خود ہاٹ کی مریض ہے تو اس کو اطلاع فوراً دینے میں اندیشہ ہے عدم برداشت کا تو اس صورت کا حکم مطلوب ہے؟
- غیر مسلم کی بیماری پر اس کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے؟
- تراویح کی آٹھ رکعت اور بیس رکعت دلائل کا جواب کیا ہیں؟
- نماز کے بعد دس بار سورۂ اخلاص پڑھنا حدیث سے ثابت ہے؟
- دیوالی میں گوشت، ہڈیاں اور دھلا ہوا پانی استعمال کرنے کی کیا حقیقت ہے؟