تراویح میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کرنے سے سجدۂ سہو کا کیا حکم ہے؟

الجواب و باللہ التوفیق:-حافظ صاحب کا تراویح کی نماز میں رکوع یا سجدہ میں تلاوت کرنا مکروہ ہے اگر بھولے سے تلاوت کی ہے تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر قصدا ایسا کیا ہے تو سجدہ سہو واجب نہ ہوگا اور نہ ہی نماز فاسد ہو گی-

📖 «فَلَوْ قَرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، كُرِهَ، وَلَمْ تَبْطُلْ صَلَاتُهُ».حوالہ: بذل الجمهور، ج4، ص351۔

📖 «لَوْ قَرَأَ التَّشَهُّدَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، لَا سَهْوَ عَلَيْهِ، بِخِلَافِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِمَا، فَإِنَّ فِيهَا السَّهْوَ».حوالہ: فتح القدير، ج1، ص521، ط: أشرفية، ديوبند۔

📖 «وَلَوْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رُكُوعِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ، يَجِبُ سَجْدَتَا السَّهْوِ؛ لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ فِيمَا لَمْ ... فِيهِ فِيمَا بَعْدَهَا، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ ذَلِكَ وَاجِبٌ».حوالہ: حلبى كبير، ج2، ص243۔