الجواب:-وہ عبارات جن میں طواف کے ساتھ سعی کا اعادہ نہیں ہے:
📖 وان طاف لعمرته محدثا وسعي كذلك، فاعاد الطواف ولم بعد السعي، لا شيء عليه واختاره صاحب الهداية وهو الصحيح(البحر العميق: ١١٣٣/٢)
📖 وہ عبارات جن میں طواف کے ساتھ اعادہ سعی بھی ہے: ومن طاف بعمرته وسعي على غير وضوء وحل فما دام بمكة يعيدهما ولا شيء ولا شيء عليه، أما إعادة الطواف وليتمكن النقص فيه لسبب الحدث واما السعي فلانه تبع الطواف(فتح القدير:٥١/٣)
📖 وكذا إذا إعاد الطواف ولم بعد السعي أي لا شيء عليه من الرواية(بناية:٣٦٢/٤) أن الطهارة ليست بشرط في السعي وإذا الشرط فيه ان يكون على اثر طواف معتد به وطواف المحدث كذلك فإن إعاد تبعا للطواف فهو أفضل (عناية:٥٢/٣)
مزید متعلقہ سوالات
- ہندوستانی زمینوں کی پیداوار پر عشر واجب ہے یا نہیں؟
- عورت کے غسل جنابت میں چوٹی کھولنا ضروری ہے یا نہیں
- واشنگ مشین میں ناپاک کپڑا پاک ہوگا یا نہیں؟
- ایک شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا بیوی میکے چلی گئی بیوی اور اس کے گھر والے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھے جبکہ شوہر طلاق دینا نہیں چاہ رہا تھا بالآخر دونوں جانب سے پنچایت بیٹھی اور طلاق نامہ لکھا گیا وکیل نے شوہر کے اور گواہوں کے بھی دستخط کرائے شوہر نے زبردستی فور میلٹی پوری کرنے کے لیے طلاق نامے پر دستخط کیے مگر شوہر راضی نہیں تھا لیکن وکیل نے دستخط کرانے کے ساتھ ساتھ زبانی بھی شوہر سے اس تحریر کو پڑھوایا، تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی جبکہ شوہر نے بخوشی دستخط نہیں کیے بلکہ اپنے آپ کو پریشانیوں سے بچانے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن بعد میں تحریر پڑھی ہے۔ برائے کرم جلد از جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
- کیا قبلہ کی طرف وضو خانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ احادیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت آئ ہے