مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:-مسجد سے خارج حصہ جس میں وضو خانہ اور غسل خانہ بیت الخلاء وغیرہ بنایا گیا ہے اس کے اوپر امام و مؤذن کے لیے فیملی کوارٹر اور کمرہ بنانا جائز اور درست ہے اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے-(المستفاد،قاسمية:٧١/١٨)
📖 اما المتخذ لصلاة جنازة او عيد فهو مسجد في حق جواز الاقتداء، وإن الفصل الصفو قدفقا بالناس لا في حق غيره به يفتي، نهاية، فحل دخوله لجنب وحائض كفنا مسجد ورباط ومدرسة ومساجد حياض واسواق لا قوارع(شامي:٤٣٠/٢،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،زكريا)(عندية جديد:٤٠٩/٢)
مزید متعلقہ سوالات
- فوڈ کلر حلال ہے یا حرام؟
- غیر مسلم اگر مسجد کے لیے چٹائی دے تو لے سکتے ہیں؟
- ایک خاتون کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے اور دوتولہ سونا تو کیا ضم کیا جائے گا؟ یا صرف پیسہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ؟ یا تیسری کوئی شکل ہوگی؟
- رمضان میں عصر کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟
- شہد کے بالٹے میں چوہا گرگیا اور وہ مرا نہیں زندہ تھا پھر اسکو اوپر والے حصے سے پکڑ کر نکال دیا جسکے ساتھ بہت سا شہد بھی لگا تھا اب اسکی پاکی کی اور کیا صورت ہے