الجواب وباللہ التوفیق:-مسجد سے خارج حصہ جس میں وضو خانہ اور غسل خانہ بیت الخلاء وغیرہ بنایا گیا ہے اس کے اوپر امام و مؤذن کے لیے فیملی کوارٹر اور کمرہ بنانا جائز اور درست ہے اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے-(المستفاد،قاسمية:٧١/١٨)
📖 اما المتخذ لصلاة جنازة او عيد فهو مسجد في حق جواز الاقتداء، وإن الفصل الصفو قدفقا بالناس لا في حق غيره به يفتي، نهاية، فحل دخوله لجنب وحائض كفنا مسجد ورباط ومدرسة ومساجد حياض واسواق لا قوارع(شامي:٤٣٠/٢،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،زكريا)(عندية جديد:٤٠٩/٢)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت ہاف آستین کے لیے چمپر پہنتی ہیں اور نماز کے لیے بڑا دوپٹہ رکھتی ہے تو چادر کی طرح ہاف آستین کے اوپر دوپٹہ اوڑھنے سے عورتوں کی نماز درست ہو جائے گی یا نہیں؟
- امام صاحب نماز پڑھ رہا تھا جب امام رکوع میں چلا گیا ایک شخص اسی حالت میں آکر کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہتے ہی تکبیر رکوع کہے بغیر رکوع میں چلا گیا تو اس کی تحریمہ صحیح ہوئی یا نہیں؟ اسے رکوع پانے والا کہا جائے گا یا نہیں؟
- ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟
- دھاتوں کے مجسمہ کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں اسی طرح تجارت میں جو پیسہ حاصل ہوا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟
- دعاء قنوت کی جگہ التحیات پڑھ لیا پھر یاد آیا تو کیا دعاء قنوت لوٹائے گا یا نہیں؟