خریدے گئے مال میں نقص نکل آئے تو کیا کیا جائے؟
الجواب:-اگر کوئی شخص سامان خرید کر لائے اور اس سامان کے اندر کوئی خرابی نظر آ جائے تو اس شخص کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو اس سامان کو پورے ثمن سے لے لیگا اگر چاہے تو اس سامان کو واپس کر دے-
📖 واذا طلع المشتري على عيب في المبيع فهو بالخيار ان شاء اخذه جميع الثمن وان شاء رده....(الهداية:٦٢١/٣،كتاب البيوع باب خيار العيب تعمية ديوبند)
📖 من وجد بمشتريه ما ينقص الثمن ولو يسيرا جوهرة عند التجار المراد بهم اذ باب المعرفة بكل تجارة وصنعة قاله المصنف اخذاه بكل الثمن او رده ما لم يتعين امساكه....(رد المختار: ١٦٩/٧-١٨٠،كتاب البيوع باب خيار العيب، زكريا ديوبند)
📖 واذا اشتري شيئا لم يعلم بالعيب وقت الشراء ولا علمه قبله والعيب يسير او فاحش فله الخيار ان شاء رضي بجميع الثمن وان شاء رده كذا في "شرح الطحاوي"(بالفتاوى الهندية:٦٧/٣،كتاب البيوع باب الثامن في خيار العيب زكريا ديوبند )
مزید متعلقہ سوالات
- فوڈ کلر حلال ہے یا حرام؟
- غیر مسلم اگر مسجد کے لیے چٹائی دے تو لے سکتے ہیں؟
- ایک خاتون کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے اور دوتولہ سونا تو کیا ضم کیا جائے گا؟ یا صرف پیسہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ؟ یا تیسری کوئی شکل ہوگی؟
- رمضان میں عصر کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟
- شہد کے بالٹے میں چوہا گرگیا اور وہ مرا نہیں زندہ تھا پھر اسکو اوپر والے حصے سے پکڑ کر نکال دیا جسکے ساتھ بہت سا شہد بھی لگا تھا اب اسکی پاکی کی اور کیا صورت ہے