کیا حوض اور ٹنکی کا پانی ماء جاری کے حکم میں ہے؟
الجواب:-جس حوض اور ٹنکی میں مثلا گلہری گری ہے اس ٹنکی کے دونوں جانب کے نل کھول دیے جائیں یعنی ایک جس سے پانی اتا ہے اور دوسرا جس سے پانی باہر نکلتا ہے تو وہ نہر جاری کے حکم میں نہیں ہوگی اس لیے نہیں ہوگی کہ ٹنکی میں جو پانی اتا ہے وہ تسلسل کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ ٹنکی میں کچھ دیر ٹھہر کر نکلتا ہے کیونکہ جاری ہونے کے لیے تسلسل ضروری ہے- اگر پانی آکر نہ روکے تسلسل چلتے رہے تو جاری کی حکم میں ہے ورنہ نہیں-
📖 رايت في شرح سيدي عبد الغني في مسالة خزانة الحمام التي اخبر ابو يوسف برواية فأرة فيها قال: فيه اسارة إلى ان ماء الخزانة إذا كان يدخل من اعلاها ويخرج من انبوب في اسفلها فليس بجار....(شامي:٣٣٨/١،كتاب الطهارة ،باب المياه،زكريا ديوبند)
📖 (قوله: والا فهو كالجاري) أي وان يكن عشرا في عشر فهو كالجاري فلا يتنجس إلا إذا تغير احد اوصافه(البحر الرائق: ١٥٠/١،كتاب الطهارة)
📖 اذا كان الحوض صغيرا يدخل فيه الماء من جانب ويخرج من جانب يجوز الوضوء فيه (الهندية:٦٩/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- فوڈ کلر حلال ہے یا حرام؟
- غیر مسلم اگر مسجد کے لیے چٹائی دے تو لے سکتے ہیں؟
- ایک خاتون کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے اور دوتولہ سونا تو کیا ضم کیا جائے گا؟ یا صرف پیسہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ؟ یا تیسری کوئی شکل ہوگی؟
- رمضان میں عصر کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟
- شہد کے بالٹے میں چوہا گرگیا اور وہ مرا نہیں زندہ تھا پھر اسکو اوپر والے حصے سے پکڑ کر نکال دیا جسکے ساتھ بہت سا شہد بھی لگا تھا اب اسکی پاکی کی اور کیا صورت ہے