زکوۃ-اور-صدقات-کا-مال-غیر-مسلم-کو-دینا-جائز-ہے-یا-نہیں
جواب:-زکوۃ کا مال غیر مسلم کو دینا شرعا درست نہیں ہے خواہ وہ کتنا ہی حاجت مند کیوں نہ ہو کیونکہ زکوۃ اور صدقات یہ مسلمان غرباء کا حق ہے غیر مسلم کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی البتہ نفلی صدقہ دے سکتا ہے۔فقط واللہ اعلم ۔
📖 وأما الحربيُّ المسالمُ، فلا يجوز دفعُ الزكاة والصدقة الواجبة إليه بالإجماع، ويجوز صرفُ التطوع إليه. (الفتاوى الهندية، 1/250، كتاب الزكاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 وسكت عن المؤلفة، فلو بهم ... إما بزوال العلة أو نسخ، لقوله صلى الله عليه وسلم في آخر الأمر: «تُؤخذ من أغنيائهم وتُرَدُّ في فقرائهم». (الدر المختار مع رد المحتار، 3/287–289، كتاب الزكاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 ومنها: أن يكون مسلمًا، فلا يجوز صرف الزكاة إلى الكافرين بلا خلاف؛ لحديث معاذ رضي الله عنه: «خُذْها من أغنيائهم ورُدَّها في فقرائهم»، أمر بوضع الزكاة في فقرائهم، من يؤخذ من أغنيائهم وهم المسلمون، فلا يجوز وضعها في غيرهم. (بدائع الصنائع، 2/161، كتاب الزكاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ملازمت بچانے کے لیے داڑھی منڈوانا جائز ہے یا نہیں؟
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے